فریاد رس

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - فریاد کو پہنچنے والا، انصاف کرنے والا، داد رس۔ "اے فریادیوں کے فریاد رس بسم اللہ الرحمن الرحیم کی لاج رکھنے کے لیے ہماری دعائیں سن لے۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٤٧٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'فریاد' کے بعد 'رسیدن' مصدر سے مشتق صیغہ امر 'رس' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فریاد کو پہنچنے والا، انصاف کرنے والا، داد رس۔ "اے فریادیوں کے فریاد رس بسم اللہ الرحمن الرحیم کی لاج رکھنے کے لیے ہماری دعائیں سن لے۔"      ( ١٩٨٤ء، طوبٰی، ٤٧٨ )